Why Pakistan nominated Donald Trump for the Nobel Prize

آخر کیا وجہ تھی کہ پاکستان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل پرائز کے لیے نامزد کیا؟
اگر آپ کو بات سمجھ نہیں آئی تو اسے یوں سمجھیں:
پاکستان نے Donald Trump کو نوبل انعام کے لیے تجویز کیا، یہ اس سے محبت یا تعریف نہیں تھی، بلکہ ایک سفارتی چال (strategy) تھی۔
دنیا میں ممالک اکثر ایسے اقدامات کرتے ہیں جن کے پیچھے کوئی نہ کوئی فائدہ ہوتا ہے۔ اس قدم کا مقصد بھی فائدہ حاصل کرنا تھا، نہ کہ واقعی انعام دلوانا۔

اصل بات یہ ہے:

نوبل انعام پاکستان نہیں دیتا
نہ ہی پاکستان سے پوچھ کر دیا جاتا ہے
اور یہ ہمیشہ مکمل میرٹ پر بھی نہیں دیا جاتا
اس لیے اگر کسی کا نام تجویز کیا گیا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم نے کوئی غلط کام کر دیا۔
حقیقت یہ ہے کہ: نوبل انعام اب ایک حد تک سیاسی ہتھیار (tool) بھی بن چکا ہے، تو پاکستان نے بھی اسی میدان میں ایک چال چل دی۔

یہ قدم کیوں اٹھایا گیا؟

جب یہ تجویز دی گئی تھی، اس وقت دنیا میں کشیدگی تھی، خاص طور پر ایران کے معاملے پر۔ خدشہ تھا کہ کہیں جنگ نہ ہو جائے۔
اس وقت Donald Trump خود بھی امن اور جنگیں روکنے کی بات کر رہا تھا، تو پاکستان نے اس بات کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کی:
“اگر آپ واقعی امن چاہتے ہیں، تو ہم آپ کو امن کا حامی (peace supporter) ظاہر کرتے ہیں، حتیٰ کہ نوبل انعام کے لیے بھی نام دے دیتے ہیں — اب آپ جنگ نہ کریں۔”
یعنی: یہ ایک نفسیاتی دباؤ ڈالنے کی کوشش تھی تاکہ وہ اپنے الفاظ سے پیچھے نہ ہٹے۔
سادہ مثال: جیسے کسی کو سب کے سامنے اچھا کہہ دیا جائے، تو وہ کوشش کرتا ہے کہ ویسا ہی بن کر دکھائے۔

پاکستان کی پوزیشن
پاکستان کوئی سپر پاور نہیں ہے کہ امریکہ کے سامنے طاقت سے کھڑا ہو جائے (یہ کام تو Russia اور China بھی مکمل طور پر نہیں کر سکے)۔

اس لیے پاکستان کو: طاقت نہیں
بلکہ عقل، حکمت اور چالاکی (strategy) سے کام لینا پڑتا ہے
یعنی: “ناخنوں سے پہاڑ کاٹ کر راستہ بنانا”
خلاصہ: پاکستان نے یہ قدم محبت میں نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اٹھایا، تاکہ:
جنگ کو روکا جا سکے
اور عالمی سطح پر اپنا اثر استعمال کیا جا سکے

جو سمجھ گیا، اس کے لیے بھی اچھا
جو نہ سمجھا، اس کے لیے بھی اچھا

پاکستان زندہ باد 

Share This:
Tags:

Leave Your Comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *